ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منی پور میں ایک بار پھر تشدد،وزیر کے گودام میں آگ صدرراج کی ضرورت نہیں،آل پارٹی میٹنگ کے بعد امیت شاہ کا فیصلہ

منی پور میں ایک بار پھر تشدد،وزیر کے گودام میں آگ صدرراج کی ضرورت نہیں،آل پارٹی میٹنگ کے بعد امیت شاہ کا فیصلہ

Sun, 25 Jun 2023 11:50:40    S.O. News Service

نئی دہلی، 25/جون(ایس او نیوز/ایجنسی)منی پور میں تشدد رکنے کا نام نہیں لے رہاہے۔ہفتہ کے روز ریاستی حکومت کے وزیر ایل سوسیندرو کے گھر پر بھیڑ نے حملہ کردیا۔ ان کے پرائیویٹ گودام اور وہاں کھڑی دو گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ سکیورٹی فورسز نے موقع پر پہنچ کر آگ بجھائی اور وزیر کے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ہجوم کا پیچھا کیا۔سوسیندرو صارفین اور خوراک کے امور اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے وزیر ہیں۔ ان کا تعلق میتی برادری سے ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گودام میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے کروڑوں روپے مالیت کے پائپ رکھے گئے تھے جو آتشزدگی سے مکمل جل کر خاکستر ہو گئے۔ ہجوم نے امپھال ایسٹ میں ساجیوا جیل کے قریب واقع بی جے پی کے دفتر کو بھی نذر آتش کر دیا۔دوسری طرف منی پور میں 52 دنوں سے جاری تشدد کو لے کر آج دہلی میں آل پارٹی میٹنگ ہوئی۔ یہ ملاقات 3 گھنٹے تک جاری رہی۔کشیدہ حالات کے پیش نظر اپوزیشن کی جانب سے صدرراج کے نفاذکے مطالبے پر آل پارٹی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیاگیاکہ صدر راج کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ فیصلہ آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما کی امیت شاہ کے ساتھ ملاقات کے بعد لیا گیا ہے۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا کہ حکومت اس وقت بیدار ہوئی جب سونیا گاندھی نے منی پور کے لوگوں سے خطاب کیا۔ ایسے حالات میں بھی منی پور کی متعصب حکومت کو نہ ہٹانا اور صدر راج نافذ نہ کرنا ایک مذاق لگتا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والی میٹنگ میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ، بی جے پی صدر جے پی نڈا، مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے اور پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے شرکت کی۔ٹی ایم سی کے رکن پارلیمان ڈیرک اوبرائن، شیو سینا کی رکن پارلیمان پرینکا چترویدی، آپ کے رکن پارلیمان سنجے سنگھ، آر جے ڈی نے میٹنگ میں شرکت کی۔ کئی اپوزیشن لیڈر بشمول ایم پی منوج کمار جھا، این سی پی جنرل سکریٹری نریندر ورما، منی پور این سی پی کے سربراہ سورن ایبویما اور سی پی آئی(ایم)کے ایم پی جان برٹاس بھی پہنچے۔


Share: